1. حلق اور تقصیر کا طریقہ

عمرے میں طواف اور سعی کے بعد سر کے بال منڈوانے کو حلق اور بال چھوٹے کرنے کو تقصیر کہتے ہیں۔ یہ عمرے کا آخری عمل ہے، جس سے معتمر احرام سے باہر آتا ہے۔
مردوں کے لیے
- حلق۔ پورا سر منڈوانا افضل ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سر منڈوانے والوں کے لیے بار بار رحمت کی دعا فرمائی اور بال چھوٹے کروانے والوں کو بھی دعا میں شامل فرمایا۔
- تقصیر۔ اگر بال چھوٹے کروائیں تو پورے سر سے بال کم کروانا ایسا طریقہ ہے جس پر عمل کرنے سے فقہی اختلاف سے بچا جا سکتا ہے۔ کم از کم مقدار میں فقہاء کی آرا مختلف ہیں۔ مالکی اور حنبلی فقہ میں پورے سر کے بالوں سے لینا لازم ہے، حنفی فقہ میں کم از کم چوتھائی سر کے بالوں سے، جبکہ شافعی فقہ میں کم از کم تین بالوں سے کاٹنا کافی ہے۔
- سر کا کچھ حصہ منڈوانا۔ سر کا کچھ حصہ منڈوا کر کچھ حصہ چھوڑ دینے کو قَزَع کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
- داڑھی۔ عمرے کا حلق یا تقصیر سر کے بالوں سے ہوتا ہے۔ داڑھی بڑھانے کی ہدایت حدیث میں آئی ہے۔ احرام کے بعد داڑھی منڈوانے یا اس میں سے کتنے بال لینے کے حکم میں فقہی تفصیل اور اختلاف ہے۔
عورتوں کے لیے
عورتیں عمرے کے اختتام پر تقصیر کرتی ہیں۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ بال جمع کر کے سروں سے تقریباً ایک پورے کے برابر کاٹ لیں۔ ایک پورے سے مراد انگلی کے سرے کا حصہ ہے۔ کم از کم کتنے بالوں سے اور کتنی مقدار کاٹنا کافی ہے، اس میں فقہی تفصیل ہے۔
احرام سے باہر آنا
طواف اور سعی کے بعد شرعی طور پر کافی حلق یا تقصیر مکمل ہونے تک احرام کی پابندیوں کا خیال رکھیں۔ جب حلق یا تقصیر مکمل ہو جائے تو عمرے کے احرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔
2. طواف اور سعی میں توجہ قائم رکھنا
طواف اور سعی کے دوران ضرورت کی جائز گفتگو سے یہ اعمال باطل نہیں ہوتے۔ غیر ضروری گفتگو میں وقت گزارنے سے عبادت پر توجہ کم ہو سکتی ہے۔ ان اوقات میں اللہ کے ذکر، دعا اور تلاوت کو ترجیح دیں۔ سکون اور وقار سے مناسک ادا کریں اور اپنے دل کو عبادت کی طرف متوجہ رکھیں۔
حضرت عائشہ رضي الله عنها سے مروی ایک روایت کا مفہوم ہے کہ بیت اللہ کا طواف، صفا و مروہ کے درمیان سعی اور جمرات کو کنکریاں مارنا اللہ کے ذکر کو قائم کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ روایت سنن ابی داؤد، حدیث 1888 میں ہے۔ شیخ البانی نے اسے ضعیف کہا ہے۔ سعی اور رمی کا ذکر جامع ترمذی، حدیث 902 میں بھی آیا ہے، جسے امام ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے۔
3. مناسک میں غلطیاں اور سنت کی پیروی
- لاعلمی میں غلطی۔ کسی شخص کو حکم معلوم نہ ہو اور اس سے خلاف ورزی ہو جائے تو امید ہے کہ اللہ اسے معاف فرمائے۔ غلطی کی اصلاح یا فدیے کا حکم جاننے کے لیے وہ اپنی صورتِ حال کسی اہلِ علم کو بتائے۔
- جان بوجھ کر غلطی کرنا یا غلط طریقہ سکھانا۔ جو شخص جان بوجھ کر خلاف ورزی کرے وہ اپنے عمل کا ذمہ دار ہے۔ جو دوسروں کو گمراہی کی طرف بلائے، اس پر ان کی پیروی سے ہونے والے گناہ جیسا بوجھ بھی آتا ہے، جبکہ پیروی کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔
- سیکھنے میں کوتاہی۔ مناسک کے ضروری احکام سیکھنے یا شبہے کی صورت میں اہلِ علم سے پوچھنے میں کوتاہی انسان کو غلطی اور گناہ میں ڈال سکتی ہے۔
اختتامی دعا
حج اور عمرے کی عبادات قرآن اور رسول اللہ محمد صلى الله عليه وسلم سے ثابت سنت کی رہنمائی میں ادا کی جاتی ہیں۔ اللہ تمام معتمرین کو صحیح علم عطا فرمائے اور انہیں سنت کے مطابق عمرہ ادا کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
