عہدِ جاہلیت

رسول اللہ محمد صلى الله عليه وسلم پر پہلی وحی نازل ہونے سے بہت پہلے لوگ کعبہ کی تعظیم کے لیے مکہ آتے تھے۔ وہ حج کرتے، بیت اللہ کا طواف کرتے اور حضرت ابراہیم عليه السلام سے وابستہ بعض طریقوں کو برقرار رکھے ہوئے تھے۔ تاہم کعبہ کے گرد ہونے والی عبادت میں بت پرستی شامل ہو چکی تھی۔ حج کا سلسلہ جاری تھا، لیکن قریش اور کنانہ کے تلبیے میں ایک ایسے شریک کا ذکر بھی شامل تھا جسے وہ اللہ کے اختیار کے ماتحت قرار دیتے تھے۔

مکہ میں حاجیوں کو کھانا کھلانے کے انتظامات بھی تھے، ایسی مجلسیں بھی تھیں جہاں قبائلی سردار جمع ہوتے تھے، اور ایسے تاجر بھی تھے جو اپنا مال تجارت کے لیے دوسروں کے سپرد کرتے تھے۔ ان سرگرمیوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کے واقعات بھی پیش آتے تھے اور ان کے خلاف کوششیں بھی ہوتی تھیں۔ ایک تاجر کا حق روکے جانے اور اس کی حمایت کے لیے معاہدہ ہونے کا واقعہ بھی اسی ماحول سے تعلق رکھتا ہے۔

باب 1: اسلام سے قبل عرب

کعبہ کے گرد عبادت

ایک روایت کے مطابق مکہ میں ہبل کے آنے کا تعلق عمرو بن لحی سے تھا۔ شام کے ایک سفر کے دوران انہوں نے کچھ لوگوں کو بتوں کی عبادت کرتے دیکھا۔ ان لوگوں کا دعویٰ تھا کہ ان کے بت بارش اور فتح کی دعائیں قبول کرتے ہیں۔ عمرو نے ان سے ایک بت مانگا تاکہ اسے اپنے ساتھ لے جائیں۔ انہیں ہبل دیا گیا، جسے وہ مکہ لے آئے اور لوگوں کو اس کی عبادت اور تعظیم کا حکم دیا۔

ایک دوسری روایت میں مکہ سے جانے والوں کے ایک طریقے کا ذکر ہے۔ وہ حرم کی تعظیم کے سبب وہاں کا ایک پتھر اپنے نئے ٹھکانوں پر لے جاتے اور اس کے گرد اسی طرح چکر لگاتے جیسے کعبہ کا طواف کرتے تھے۔ پھر اس روایت میں ایک تبدیلی بیان ہوتی ہے: لوگ اپنی پسند کے پتھروں کی عبادت کرنے لگے اور اس دین کو چھوڑ بیٹھے جس کی وہ پہلے پیروی کرتے تھے۔

ورثے میں ملنے والے بعض طریقے باقی رہے۔ لوگ کعبہ کی تعظیم، حج اور قربانی کرتے رہے۔ حضرت ابراہیم عليه السلام سے وابستہ مناسک ان مذہبی اضافوں کے ساتھ جاری رہے جنہوں نے ان کی نوعیت بدل دی تھی۔ یہاں تک کہ حج کے تلبیے میں بھی اللہ کے اقرار کے ساتھ ایک ایسے شریک کا ذکر شامل تھا جسے وہ اسی کے اختیار میں سمجھتے تھے۔

اسلام سے پہلے کی خودساختہ مذہبی رسوم

جانوروں کو بھی ان رسوم میں شامل کیا گیا تھا۔ بحیرہ ایسی اونٹنی کو کہتے تھے جس کا دودھ بتوں کے لیے مخصوص کر دیا جاتا تھا۔ سائبہ وہ اونٹنی تھی جسے اپنے معبودوں کے لیے چھوڑ دیا جاتا اور اس پر بوجھ نہیں لادا جاتا تھا۔ یہ وضاحتیں سعید بن مسیب کے بیان میں ملتی ہیں، جو صحیح بخاری، حدیث 4623 میں درج ہے۔

قرآن ان خودساختہ مذہبی پابندیوں کی مذمت کرتا ہے۔ ان میں کھیتی اور مویشیوں کا کچھ حصہ اللہ کے فرض کیے ہوئے شریکوں کے لیے مقرر کرنا اور بعض رزق کو حرام قرار دینا بھی شامل تھا۔ قرآن بچوں کو قتل کرنے کی بھی مذمت کرتا ہے۔ ان امور کا ذکر یہاں دیے گئے حوالوں میں آتا ہے: سورۃ المائدہ 5:103، سورۃ النحل 16:56 اور 16:116، اور سورۃ الانعام 6:136–140۔

عربوں کی جہالت واضح کرتے ہوئے حضرت ابن عباس رضي الله عنهما نے سورۃ الانعام کی ان آیات کی طرف توجہ دلائی جن میں نادانی سے بچوں کو قتل کرنے اور اللہ کے دیے ہوئے رزق کو حرام قرار دینے کی مذمت کی گئی ہے۔ ان کا یہ قول صحیح بخاری، حدیث 3524 میں درج ہے۔ یہ بیان جہالت کو محض معلومات کی کمی کے بجائے مخصوص اعمال اور جھوٹے مذہبی دعووں سے جوڑتا ہے۔

مکہ میں قیادت اور حاجیوں کی خدمت

قصی بن کلاب نے اپنی قوم کو مکہ میں جمع کیا اور قریش کے خاندانوں کو مختلف محلوں میں آباد کیا۔ ان کے اختیارات میں کعبہ کی تولیت، حاجیوں کی خدمت، مجلس کے امور اور عَلَم کی ذمہ داری شامل تھی۔

دارالندوہ سرداروں کی مجلس گاہ تھا۔ وہ اہم اختلافات پر گفتگو کرنے اور ان سے نمٹنے کے فیصلے کرنے کے لیے وہاں جمع ہوتے تھے۔ نکاح کے معاہدے اور دوسرے اجتماعی معاملات بھی وہیں طے کیے جاتے تھے۔ تاہم جب قریش کو حرم کا اختیار دوبارہ ملا تو خزاعہ سے چلی آنے والی رسوم جاری رہیں، جن میں بتوں کے لیے قربانیاں کرنا اور ان سے مدد مانگنا بھی شامل تھا۔

حاجیوں کی ضروریات پوری کرنا بھی ایک ذمہ داری تھی۔ قصی نے قریش کو ترغیب دی کہ وہ بیت اللہ کے زائرین کو کھانا اور پانی فراہم کریں۔ قبیلے کے افراد اپنے مال میں سے حصہ دیتے تھے، اور اس رقم سے منیٰ میں قیام کے دوران حاجیوں کو کھانا کھلایا جاتا تھا۔

تجارت اور امانت

حضرت خدیجہ بنت خویلد رضي الله عنها مال دار تاجرہ تھیں۔ وہ منافع میں شرکت کی بنیاد پر مردوں کو اپنا مال تجارت کے لیے دیتی تھیں۔ ان کی تجارت اس بات کی ایک خاص مثال پیش کرتی ہے کہ بعثت سے پہلے مکہ میں تجارتی معاملات کس طرح انجام پاتے تھے۔

محمد صلى الله عليه وسلم کی سچائی، امانت داری اور حسنِ اخلاق کا ذکر سننے کے بعد حضرت خدیجہ رضي الله عنها نے انہیں شام کے تجارتی سفر کی پیش کش کی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ پیش کش قبول کر لی۔ یوں وحی سے پہلے آپ صلى الله عليه وسلم کی زندگی کے اس واقعے میں تجارت اور شخصی ساکھ کا باہمی تعلق سامنے آتا ہے۔

حرمت والے مہینے میں جنگ

بعض اوقات اور مہینوں کی حرمت بھی ہمیشہ لڑائی کو روک نہ سکی۔ جنگِ فجار کہلانے والے تنازع میں کنانہ اور قیس عیلان شریک تھے۔ اس کا نام حرمت والے مہینے میں جنگ کرنے سے وابستہ تھا، جب لڑائی ممنوع تھی۔

اس وقت محمد صلى الله عليه وسلم کی عمر کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ ایک روایت میں بیس سال اور دوسری میں چودہ یا پندرہ سال بیان ہوئے ہیں۔ یہ عمریں الگ الگ روایات میں آئی ہیں، اس لیے انہیں ملا کر ایک قطعی عمر مقرر نہیں کرنی چاہیے۔

ایک تاجر کی فریاد اور حلف الفضول

قبیلہ زبید کا ایک تاجر اپنا مال مکہ لایا، جہاں عاص بن وائل نے اس کا واجب حق روک لیا۔ تاجر نے عاص کے حلیفوں سے مدد مانگی، لیکن انہوں نے مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اس نے کعبہ کے قریب علانیہ فریاد کی۔

بنو ہاشم، بنو زہرہ اور بنو تیم کے کچھ لوگ عبداللہ بن جدعان کے گھر جمع ہوئے۔ انہوں نے طے کیا کہ وہ مظلوم کا ساتھ دیں گے اور ظالم کے خلاف متحد رہیں گے، یہاں تک کہ مظلوم کا حق اسے واپس مل جائے۔ پھر انہوں نے تاجر کا مال واپس دلوایا اور اس کے حوالے کر دیا۔ یہ معاہدہ حلف الفضول کے نام سے معروف ہوا۔

ایک روایت میں محمد صلى الله عليه وسلم کے ابن جدعان کے گھر ہونے والے معاہدے میں شریک ہونے اور اسلام کے بعد بھی ایسی دعوت پر لبیک کہنے کی آمادگی ظاہر کرنے کا ذکر ہے۔ اس سے مطابقت رکھنے والی روایت بیہقی کی السنن الکبریٰ، زیرِ مراجعت ترقیم کے مطابق حدیث 12719 میں ملتی ہے۔ یہ حوالہ روایت کی نشان دہی کرتا ہے؛ اسے یہاں اس کی سند کے بارے میں کسی مستقل حکم کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

بت پرستی کو رد کرنے والے

ہر شخص اپنے اردگرد کی بت پرستی کو قبول نہیں کرتا تھا۔ ورقہ بن نوفل نے عیسائیت اختیار کی اور اس کی مذہبی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ زید بن عمرو بن نفیل نے بتوں کو رد کیا اور حضرت ابراہیم عليه السلام کے دین کی تلاش کی۔

زید اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتے تھے اور دوسرے معبودوں کے نام پر جانور ذبح کرنے کی مخالفت کرتے تھے۔ ان کے اس مؤقف کی وجہ سے ان کی مخالفت ہوئی، یہاں تک کہ انہیں مکہ میں داخل ہونے سے روکنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔

رائج طریقوں کے خلاف ان کی مزاحمت میں لڑکیوں کو قتل کرنے کی مخالفت بھی شامل تھی۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضي الله عنهما نے بیان کیا کہ جب کوئی باپ اپنی بیٹی کو قتل کرنا چاہتا تو زید اس کی پرورش کا خرچ اٹھانے کی پیش کش کرتے تھے۔ وہ بچی کو اپنی کفالت میں لے لیتے۔ جب وہ بڑی ہو جاتی تو اس کے باپ کو اختیار دیتے کہ چاہے اسے واپس لے لے یا زید کو اس کی کفالت جاری رکھنے دے۔ حضرت اسماء رضي الله عنها کا یہ بیان صحیح بخاری، حدیث 3828 میں درج ہے۔

ان واقعات میں بت پرستی، خودساختہ مذہبی پابندیوں اور ظلم کے ساتھ حاجیوں کی خدمت، تجارت، مظلوم کی حمایت اور بتوں کو رد کرنے کی مثالیں بھی سامنے آتی ہیں۔ یہ واقعات محمد صلى الله عليه وسلم کی بعثت سے پہلے مکہ اور اس کے گردونواح کے حالات کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔

Leave a Reply