تعارف

اللہ کی بے نیازی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی ذات، صفات اور افعال میں کسی کا محتاج نہیں، جبکہ تمام مخلوق اس کی محتاج ہے۔ ہماری عبادت اس کے کمال میں کوئی اضافہ نہیں کرتی اور ہماری نافرمانی اس کی بادشاہی میں کوئی کمی نہیں کرتی۔ اس حقیقت کو سمجھنے سے ہمیں اپنی محتاجی، اپنی ذمہ داریوں اور اللہ کے فضل کا زیادہ گہرا احساس ہوتا ہے۔

اللہ کی بے نیازی بیان کرتے ہوئے قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ انسانی زندگی بامقصد ہے۔ نیک اعمال کا فائدہ انہیں انجام دینے والوں کو پہنچتا ہے، شکرگزاری اللہ کو پسند ہے، اور ہر انسان اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہے۔

قرآنی آیات

ذیل میں آیات کے آسان مفہومی تراجم دیے گئے ہیں؛ یہ کسی مخصوص مطبوعہ اردو ترجمے سے لفظی اقتباسات نہیں ہیں۔

سورۃ الاخلاص — 112:2

ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ

ترجمہ: اللہ بے نیاز ہے، سب اسی کے محتاج ہیں۔

یہ آیت اللہ کو الصمد کہتی ہے۔ یہ نام اس کی کامل بے نیازی اور تمام مخلوق کے اس کا محتاج ہونے کو سمجھنے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

سورۃ فاطر — 35:15

۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ أَنتُمُ ٱلْفُقَرَآءُ إِلَى ٱللَّهِ ۖ وَٱللَّهُ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَمِيدُ

ترجمہ: اے لوگو! تم اللہ کے محتاج ہو، اور اللہ ہی بے نیاز، ہر تعریف کا مستحق ہے۔

یہ آیت انسانوں کی محتاجی کے مقابلے میں اللہ کی صفات الغنی، یعنی ہر حاجت سے بے نیاز، اور الحمید، یعنی ہر تعریف کا مستحق، کو بیان کرتی ہے۔

سورۃ العنکبوت — 29:6

وَمَن جَٰهَدَ فَإِنَّمَا يُجَٰهِدُ لِنَفْسِهِۦٓ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِىٌّ عَنِ ٱلْعَٰلَمِينَ

ترجمہ: اور جو شخص جدوجہد کرتا ہے، وہ اپنے ہی فائدے کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ بے شک اللہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ کی راہ میں کوشش کرنے کا فائدہ کوشش کرنے والے ہی کو پہنچتا ہے۔ اللہ اپنی کسی مخلوق کا محتاج نہیں۔

سورۃ الزمر — 39:7

إِن تَكْفُرُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ عَنكُمْ ۖ وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ ٱلْكُفْرَ ۖ وَإِن تَشْكُرُوا۟ يَرْضَهُ لَكُمْ ۗ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌۭ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۗ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

ترجمہ: اگر تم کفر کرو تو بے شک اللہ تم سے بے نیاز ہے، اور وہ اپنے بندوں کے لیے کفر پسند نہیں کرتا۔ اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرتا ہے۔ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تمہیں اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے، تو وہ تمہیں بتا دے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔ بے شک وہ دلوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے۔

یہ آیت اللہ کی بے نیازی کے ساتھ شکرگزاری کے لیے اس کی پسندیدگی، ہر فرد کی اپنی ذمہ داری اور آخرت کی جواب دہی کو بیان کرتی ہے۔

مفہوم کو سمجھنا

روزمرہ گفتگو میں کسی مال دار یا بااثر شخص کو خودکفیل کہا جا سکتا ہے، لیکن انسان کی خودکفالت ہمیشہ محدود ہوتی ہے۔ ہر شخص کھانے، پانی، آرام اور بہت سے ایسے اسباب کا محتاج ہے جو اس کے اختیار سے باہر ہیں۔ اللہ کی بے نیازی کامل ہے۔ وہ کسی سے قوت حاصل نہیں کرتا اور اپنی بادشاہی کا نظام چلانے کے لیے اسے کسی مدد کی ضرورت نہیں۔ سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔

سورۃ فاطر تمام انسانوں کو مخاطب کرتی ہے، صرف ان لوگوں کو نہیں جن کے پاس مال کم ہے۔ امیر و غریب اور طاقت ور و کمزور، سب اللہ کے محتاج ہیں۔ یہ محتاجی کسی مشکل کے آنے سے شروع نہیں ہوتی۔ ہم آسودگی میں بھی اسی طرح اس کے محتاج ہیں جیسے تنگی میں۔ مشکلات اکثر ہمیں اس حقیقت کا احساس دلاتی ہیں جسے ہم آرام کے دنوں میں بھول گئے تھے۔

یہاں ایک اہم سوال سامنے آتا ہے: اگر اللہ کو ہماری عبادت کی ضرورت نہیں تو ہمیں اس کی عبادت کیوں کرنی چاہیے؟ سورۃ العنکبوت واضح کرتی ہے کہ نیکی کی راہ میں کوشش کا فائدہ کوشش کرنے والے ہی کو پہنچتا ہے۔ عبادت سے ہم اس کے بندے ہونے کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔ ہم اس کے احکام کے پابند ہیں، ہمیں اسی کی طرف لوٹنا ہے، اور اپنے اعمال کا جواب اسی کے حضور دینا ہے۔

اللہ کی بے نیازی اور اس کی رضا کے درمیان فرق سمجھنا بھی ضروری ہے۔ سورۃ الزمر واضح کرتی ہے کہ اللہ کسی کا محتاج نہیں، لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر پسند نہیں کرتا اور ان کی شکرگزاری سے راضی ہوتا ہے۔ کسی عمل کا اسے پسند ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ اسے اس عمل کی ضرورت ہے۔ بندہ اطاعت کے ذریعے اس کی رضا چاہتا ہے اور اس کے فضل سے اجر کی امید رکھتا ہے۔

آیات کا مرکزی پیغام

تفسیر ابن کثیر کا خلاصہ

سورۃ الاخلاص کی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضي الله عنهما سے منقول ایک وضاحت کے مطابق الصمد وہ ہے جس کی طرف مخلوق اپنی ضروریات اور درخواستوں کے لیے رجوع کرتی ہے۔ اسی مقام پر اللہ کی سیادت و اقتدار، علم، حکمت اور دیگر صفات کے کمال کا بھی ذکر ہے۔ اس لیے الصمد کا مفہوم محض یہ نہیں کہ اللہ کسی سے کچھ حاصل نہیں کرتا۔ وہ ہر عیب اور کمی سے پاک ہے، جبکہ مخلوق اس کی محتاج ہے۔ یہ سورت اس حقیقت کے ساتھ اللہ کی یکتائی اور اس کے کسی ہمسر کے نہ ہونے کو بھی بیان کرتی ہے۔

حوالہ: تفسیر ابن کثیر، سورۃ الاخلاص 112:1–4۔

سورۃ فاطر کی تفسیر واضح کرتی ہے کہ لوگ اپنے تمام معاملات میں اللہ کے محتاج ہیں، جبکہ وہ ان سے بے نیاز ہے۔ الغنی کے ساتھ الحمید کا ذکر بتاتا ہے کہ اللہ اپنے افعال، اقوال، فیصلوں اور احکام میں ہر تعریف کا مستحق ہے۔ اس کا مستحقِ حمد ہونا بندوں کی طرف سے کسی فائدے کے پہنچنے پر منحصر نہیں؛ وہ اپنے کمال کی وجہ سے حمد کا مستحق ہے۔

اسی مقام پر یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اللہ لوگوں کو ہٹا کر ان کی جگہ دوسری مخلوق لا سکتا ہے۔ کوئی فرد یا قوم یہ نہیں سمجھ سکتی کہ اللہ کا کام اس کے بغیر نہیں چل سکتا۔ اس کے بعد گفتگو ہر شخص کی اپنی جواب دہی اور اللہ کی طرف واپسی کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ جو شخص اپنا تزکیہ کرتا ہے، اس کا فائدہ اسی کو پہنچتا ہے۔ اللہ کی بے نیازی بندے سے اس کے اعمال کی جواب دہی ختم نہیں کرتی۔

حوالہ: تفسیر ابن کثیر، سورۃ فاطر 35:15–18۔

سورۃ العنکبوت کی تفسیر میں بتایا گیا ہے کہ نیک عمل کا فائدہ اسے کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ اللہ اپنے بندوں کے اعمال کا محتاج نہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے فضل و کرم سے ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کے گناہ مٹاتا ہے اور انہیں اجر عطا کرتا ہے۔ آس پاس کی آیات میں اللہ سے ملاقات کی امید اور نیک اعمال کی جزا کا ذکر ہے۔ اس سے مومن کو اپنی کوشش کا واضح مقصد اور اللہ کے اجر کی امید ملتی ہے۔

حوالہ: تفسیر ابن کثیر، سورۃ العنکبوت 29:5–7۔

سورۃ الزمر کی تفسیر اللہ کی بے نیازی اور اس کی پسند و ناپسند کے درمیان فرق واضح کرتی ہے۔ وہ کفر پسند نہیں کرتا اور شکرگزاری سے راضی ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنے اعمال کا جواب دے گا، اور دل کے اندر چھپی ہوئی باتیں بھی اس کے علم میں ہیں۔ اگلی آیت اس انسان کا حال بیان کرتی ہے جو مشکل میں اپنے رب کو پکارتا ہے، لیکن راحت ملنے پر اسے بھول جاتا ہے۔ یہ سیاق ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کی طرف رجوع کسی خاص پریشانی کے وقت تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

حوالہ: تفسیر ابن کثیر، سورۃ الزمر 39:7–8۔

مرکزی پیغام کا خلاصہ

اللہ ہر طرح کی حاجت سے مکمل طور پر بے نیاز ہے، جبکہ ہم ہر حال میں اس کے محتاج ہیں۔ ہماری عبادت اور شکرگزاری کا فائدہ ہمیں ہی پہنچتا ہے، اور ہم اس کے احکام کی اطاعت اور اپنے اعمال کی جواب دہی کے ذمہ دار ہیں۔ یہ آیات ہمیں توحید پر ایمان، شکرگزاری اور نیک اعمال کے ساتھ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔

صحیح حدیث سے رہنمائی

حضرت ابوذر رضي الله عنه سے مروی ایک حدیثِ قدسی، جو صحیح مسلم 2577a میں درج ہے، اس موضوع کو مزید واضح کرتی ہے۔

متعلقہ حصوں کا مفہوم — لفظی اقتباس نہیں: اگر پہلے سے آخری تک تمام انسان اور جن اپنے سب سے زیادہ متقی شخص جیسے متقی ہو جائیں تو اس سے اللہ کی بادشاہی میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اگر وہ سب اپنے سب سے زیادہ بدکار شخص جیسے بدکار ہو جائیں تو اس کی بادشاہی میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اگر وہ سب ایک جگہ جمع ہو کر اللہ سے مانگیں اور وہ ہر ایک کو اس کی مانگی ہوئی چیز عطا کر دے تو اس کے پاس جو کچھ ہے اس میں کمی نہیں ہوگی؛ حدیث میں اس کی وضاحت سمندر میں سوئی ڈبونے کی مثال سے کی گئی ہے۔ یہی حدیث بندوں کو اللہ سے ہدایت، روزی اور مغفرت مانگنے کی تعلیم بھی دیتی ہے۔

حوالہ: صحیح مسلم 2577a

اس تعلیم کی اہمیت

یہ تعلیم اللہ کی بے نیازی اور بندے کی دعا کو ایک ساتھ بیان کرتی ہے۔ جو رب کسی کا محتاج نہیں، بندہ اپنی ہر حاجت اسی کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اللہ کا عطا کرنا انسانوں کے دینے جیسا نہیں، جن کے پاس موجود مال خرچ کرنے سے کم ہو جاتا ہے۔ بندہ اپنی محتاجی تسلیم کرتا ہے اور اپنے بے نیاز رب کے فضل و کرم کی امید رکھتا ہے۔

آج کی زندگی کے لیے رہنمائی

ہم اپنی عبادت پر اس طرح فخر نہیں کر سکتے جیسے ہم نے اللہ پر کوئی احسان کر دیا ہو۔ نہ ہمیں اپنی ضرورتوں کو اتنا بڑا سمجھنا چاہیے کہ مایوس ہو کر اس سے مانگنا چھوڑ دیں۔ صحیح رویہ عاجزی کے ساتھ امید رکھنا ہے: نیکی کی توفیق پر شکر، کوتاہیوں پر توبہ، اور ہر حال میں اللہ کی طرف مسلسل رجوع۔

غور و فکر

جب ہم کہتے ہیں کہ «میرے پاس سب کچھ ہے»، تو کیا ہم اپنی حالت کو پوری طرح دیکھ رہے ہوتے ہیں؟ دولت اور آسودگی بہت سی ظاہری مشکلات کم کر سکتی ہیں، لیکن ہمیں اللہ سے بے نیاز نہیں بنا سکتیں۔ سورۃ فاطر ہمیں اپنی اصل حیثیت پہچاننے کی تعلیم دیتی ہے۔ جو کچھ ہمیں ملا ہے وہ شکر کا تقاضا کرتا ہے، اور جس چیز کی اب بھی ضرورت ہے اس کے لیے دعا اور جائز کوشش کرنی چاہیے۔

ہمیں عبادت کے بارے میں اپنے رویے کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ کوئی شخص یہ سوچنے لگ سکتا ہے کہ چونکہ اس نے بہت سے نیک اعمال کیے ہیں، اس لیے اب زندگی کا ہر معاملہ اس کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔ لیکن نیکی کرنے سے اللہ پر ہمارا کوئی احسان نہیں ہو جاتا۔ بندہ اس کی اطاعت کرتا ہے، اس کے وعدے پر بھروسا رکھتا ہے، اور اس کے فضل سے اجر کی امید کرتا ہے۔

اپنی محتاجی کو پہچاننا دوسروں کی مدد کرتے وقت بھی ہمیں عاجزی اختیار کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ جب ہم خود اللہ کے محتاج ہیں تو کسی ضرورت مند کی مدد اپنی برتری دکھانے کا ذریعہ کیوں بنے؟ مدد کرنے کی استطاعت اور موقع ملنا خود شکر کا سبب ہے۔ یہ سوچ اخلاص پیدا کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور دوسروں پر احسان جتانے سے بچاتی ہے۔

ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم اللہ کو صرف مشکل میں یاد کرتے ہیں؟ اگر ہم ہر وقت اس کے محتاج ہیں تو ہمارا شکر اور ہماری عبادت صرف پریشانی کے دنوں تک محدود کیوں ہو؟ آسودگی میں اللہ کو یاد کرنا اس حقیقت کے اعتراف کا عملی اظہار ہے کہ اس سے ہمارا تعلق کسی ایک ضرورت تک محدود نہیں۔

دعا

اے اللہ! ہمیں اپنی محتاجی اور تیری کامل بے نیازی کو سمجھنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں تکبر، ناشکری اور اپنی نیکیوں پر غرور کرنے سے محفوظ رکھ۔ ہماری عبادت میں اخلاص عطا فرما، ہماری کوتاہیاں معاف فرما، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو آسودگی اور تنگی دونوں حالتوں میں تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ آمین۔

Leave a Reply