تعارف

اسلام سے پہلے مکہ میں کعبہ کی تولیت، حاجیوں کی خدمت اور قبائلی قیادت ایک دوسرے سے وابستہ تھیں۔ بیت اللہ کی نگہبانی کے ساتھ زائرین کے لیے کھانے اور پانی کا انتظام بھی اہم ذمہ داری تھا۔ حج کے بعض مراحل میں مختلف قبائل کو مخصوص اختیارات حاصل تھے، اور قریش کے اجتماعی معاملات میں ان خاندانوں کو نمایاں حیثیت حاصل تھی جن کے پاس یہ ذمہ داریاں تھیں۔

قریش کو مکہ میں جمع کرنے اور ان کے اجتماعی معاملات کو منظم کرنے میں قُصَی بن کلاب کا کردار بنیادی تھا۔ انہوں نے کعبہ کی تولیت حاصل کی، قریش کے خاندانوں کو مکہ میں آباد کیا اور مشاورت کے لیے دارالندوہ قائم کیا۔ انہی کے زمانے میں حرم کی نگہبانی، حاجیوں کی خدمت اور قریش کی قیادت کے متعدد اختیارات ایک شخص کے پاس جمع ہوئے۔

قُصَی بن کلاب کا خاندان اور ابتدائی زندگی

قُصَی بن کلاب بن مُرّہ بن کعب بن لُؤَی، رسول اللہ محمد صلى الله عليه وسلم کے پدری آباؤ اجداد میں سے تھے۔ ان کے والد کلاب بن مرہ اور والدہ فاطمہ بنت سعد بن سَیَل تھیں۔ زہرہ بن کلاب ان کے بھائی تھے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے ان کا نسبی تعلق یوں ہے: محمد صلى الله عليه وسلم بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قُصَی بن کلاب۔ اس ترتیب میں ہر نام اپنے سے پہلے مذکور شخص کے والد کا ہے۔

کلاب کی وفات کے بعد فاطمہ نے قبیلہ عُذرہ کے ربیعہ بن حرام سے نکاح کیا۔ ربیعہ انہیں اور ان کے بیٹے قُصَی کو اپنے علاقے میں لے گئے۔ جوان ہونے پر قُصَی مکہ آئے اور خزاعہ کے سردار حُلَیل بن حُبشیہ کی بیٹی حُبّیٰ سے شادی کی۔ اس وقت کعبہ کی تولیت خزاعہ کے پاس تھی۔ عبد مناف اور عبد الدار سمیت قُصَی کے بیٹوں کی والدہ حُبّیٰ تھیں۔

کعبہ کی تولیت خزاعہ سے قُصَی کو کیسے ملی؟

تولیت کی منتقلی کے بارے میں مختلف تاریخی روایات ملتی ہیں۔ خزاعہ سے منقول ایک بیان کے مطابق، حُلَیل نے اپنی بیٹی سے قُصَی کی کثیر اولاد دیکھ کر بیت اللہ کی تولیت ان کے سپرد کرنے کی وصیت کی اور انہیں اس کا زیادہ حق دار قرار دیا۔ ابن اسحاق نے واضح کیا ہے کہ یہ بیان انہیں صرف خزاعہ ہی سے پہنچا تھا۔

دوسرے بیان کے مطابق، قُصَی نے اپنے ماں شریک بھائی رِزاح بن ربیعہ اور ان کے ساتھیوں سے مدد لی۔ کنانہ، قضاعہ اور مکہ کے گرد رہنے والے قریش اور دوسرے لوگوں میں سے بھی ان کے حامی شامل ہوئے۔ یہ مدد طلب کرنا محض ننھیالی رشتہ داروں سے تعاون مانگنا نہیں تھا؛ رِزاح ان کے ماں شریک بھائی تھے۔

خزاعہ سے اقتدار کی کشمکش میں لڑائی اور بہت خون ریزی ہوئی۔ آخرکار فریقین نے یعمر بن عوف کنانی کو ثالث بنایا۔ انہوں نے قُصَی کو بیت اللہ کی تولیت کا زیادہ حق دار قرار دیا۔ فیصلے میں لڑائی کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور دیت کا معاملہ بھی شامل تھا، اور اس کے نتیجے میں مکہ اور کعبہ کا اختیار قُصَی کو مل گیا۔

ایک اور روایت، جسے اُموی نے ابو عبیدہ کے واسطے سے خزاعہ کے بعض لوگوں سے نقل کیا ہے، یہ بتاتی ہے کہ حُلَیل نے تولیت اپنی بیٹی حُبّیٰ کو دی اور ابو غُبشان کو ان کی طرف سے اس کا نگران مقرر کیا۔ اسی روایت میں قُصَی کا ابو غبشان سے شراب کی ایک مشک اور ایک اونٹ کے عوض تولیت حاصل کرنا مذکور ہے۔ اس کے بعد خزاعہ کی مخالفت اور قُصَی کا اپنے بھائی سے مدد طلب کرنا بھی بیان ہوا ہے۔

رِزاح کی آمد کے وقت کے بارے میں بھی اختلاف منقول ہے: ایک دوسرے بیان میں ان کا پہنچنا خزاعہ کے نکالے جانے کے بعد بتایا گیا ہے۔ اس لیے تولیت کی منتقلی اور بیرونی مدد کی ان تمام تفصیلات کو ایک ہی متفقہ واقعے کی صورت میں جمع نہیں کیا جا سکتا۔

مکہ میں قریش کا اجتماع

اختیار حاصل کرنے کے بعد قُصَی نے قریش کے منتشر خاندانوں کو مکہ میں جمع کیا۔ انہوں نے رہائش کے لیے علاقوں کی تقسیم کی اور ہر خاندان کو اس کی جگہ آباد کیا۔ کچھ خاندان مکہ کے نشیبی حصوں میں اور کچھ اس کے بیرونی یا بالائی علاقوں میں بسے۔ اسی نسبت سے قریشِ بطاح اور قریشِ ظواہر کے نام معروف ہوئے۔ قُصَی کی قوم انہیں اپنا حاکم مانتی اور ان کے فیصلوں کی پیروی کرتی تھی۔

تاہم قُصَی نے عربوں کے تمام پہلے سے موجود اختیارات ختم نہیں کیے۔ بعض قبائل حج کے مراحل سے متعلق اپنے روایتی حقوق پر قائم رہے۔ اس سے پہلے صوفہ کو جمرات کی رمی اور منیٰ سے روانگی میں پہل کا اختیار حاصل تھا، جبکہ مزدلفہ سے روانگی کی اجازت عدوان کے پاس تھی۔ اقتدار کی تبدیلی کے باوجود حج کے انتظام سے وابستہ قبائلی حقوق کا سلسلہ باقی رہا۔

اسی طرح کعبہ کی تولیت قریش کو ملنے سے بت پرستی ختم نہیں ہوئی۔ ابن کثیر بیان کرتے ہیں کہ قریش نے خزاعہ کی رائج کردہ بت پرستی کی رسمیں برقرار رکھیں: بت کعبہ کے گرد نصب تھے، ان کے لیے قربانی کی جاتی، ان کے پاس عبادت کی جاتی اور ان سے مدد اور رزق مانگا جاتا تھا۔

قیادت کی پانچ اہم ذمہ داریاں

قُصَی کے پاس حجابہ، سقایہ، رفادہ، ندوہ اور لواء کے اختیارات جمع تھے۔ حجابہ سے مراد کعبہ کی تولیت اور نگہبانی، سقایہ سے حاجیوں کو پانی پلانا، اور رفادہ سے ان کے کھانے کا انتظام تھا۔ ندوہ قریش کی اجتماعی مجلس اور مشاورت سے متعلق اختیار تھا، جبکہ لواء جنگ کے عَلَم باندھنے اور دینے کی ذمہ داری تھی۔ یوں بیت اللہ کی خدمت اور قریش کے اجتماعی امور کی اہم ذمہ داریاں ان کی قیادت میں جمع تھیں۔

دارالندوہ: مشاورت اور فیصلوں کا مرکز

قُصَی نے دارالندوہ قائم کیا، جس کا دروازہ مسجدِ حرام کی طرف تھا۔ جب کوئی اہم معاملہ یا مشکل پیش آتی تو قریش کے سردار یہاں جمع ہو کر مشورہ کرتے اور فیصلہ طے کرتے۔ معاہدے اور نکاح کے معاملات بھی یہیں انجام پاتے تھے۔

اس عمارت سے بعض معاشرتی رسمیں بھی وابستہ تھیں۔ روایت میں ذکر ہے کہ لڑکی کو سنِ بلوغ پر مخصوص لباس پہنانے کی رسم یہاں ادا کی جاتی تھی۔ دارالندوہ اس طرح قریش کی مشاورت کے ساتھ بعض خاندانی معاملات کا بھی مرکز تھا۔

سقایہ: حاجیوں کو پانی پلانا

قُصَی کے انتظام میں حاجی ان کے حوضوں سے پانی پیتے تھے۔ اس وقت زمزم کا کنواں مٹ چکا تھا۔ روایت کے مطابق جرہم کے زمانے سے اس پر اتنا عرصہ گزر گیا تھا کہ لوگ اس کی جگہ بھول گئے تھے اور اسے تلاش نہیں کر پا رہے تھے۔ حاجیوں کی پانی کی ضرورت حوضوں کے ذریعے پوری کی جاتی تھی۔

واقدی سے منقول ایک روایت میں قُصَی کو مزدلفہ میں آگ روشن کرنے کا طریقہ شروع کرنے والا بھی بتایا گیا ہے، تاکہ عرفات سے آنے والوں کو رہنمائی مل سکے۔

رفادہ: حاجیوں کے کھانے کا انتظام

رفادہ حج کے دنوں میں حاجیوں کو ان کی واپسی تک کھانا کھلانے کا انتظام تھا۔ ابن اسحاق کی روایت کے مطابق، قُصَی نے قریش کو یاد دلایا کہ وہ بیت اللہ کے پڑوسی اور حرم کے باشندے ہیں، جبکہ حاجی اللہ کے مہمان اور اس کے گھر کے زائر ہیں۔ انہوں نے قریش سے اپنے مال میں حصہ نکالنے کو کہا تاکہ زائرین کی مہمان نوازی ہو سکے۔

اس کے بعد لوگ ہر سال اپنے مال سے ایک حصہ قُصَی کے سپرد کرتے، اور اس سے حج کے دنوں میں منیٰ میں حاجیوں کے لیے کھانا تیار کیا جاتا۔ یہ طریقہ قُصَی کے بعد بھی جاری رہا۔ ابن کثیر بعد کے انتظام کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ابن اسحاق کے زمانے کے بعد اس صورت میں تبدیلی آئی اور حاجیوں کے کھانے اور پانی کے لیے بیت المال سے وسائل فراہم کیے جانے لگے۔

عبد الدار کو اختیارات کی منتقلی

عمر رسیدہ ہونے پر قُصَی نے اپنی ذمہ داریاں اپنے بڑے بیٹے عبد الدار کے سپرد کر دیں۔ ان میں کعبہ کی تولیت، حاجیوں کے کھانے اور پانی کا انتظام، عَلَم دینے اور اجتماعی مجلس بلانے کے اختیارات شامل تھے۔ روایت کے مطابق، عبد الدار کے بھائی اپنے والد کی زندگی ہی میں قوم میں بلند مقام حاصل کر چکے تھے۔ قُصَی چاہتے تھے کہ عبد الدار بھی مرتبے میں ان کے برابر ہوں، اس لیے انہوں نے یہ مناصب انہیں دیے۔ ان کے بھائیوں نے اس فیصلے پر نزاع نہیں کیا۔

اس نسل کے گزرنے کے بعد ان کی اولاد میں اختلاف پیدا ہوا۔ بنو عبد الدار ان مناصب کو قُصَی کا اپنے خاندان کے حق میں کیا ہوا فیصلہ سمجھتے تھے، جبکہ بنو عبد مناف کا مؤقف تھا کہ عبد الدار کو یہ اختیارات ان کے بھائیوں کے برابر مقام دینے کے لیے ملے تھے اور اب وہ بھی اپنے باپ دادا کے حق کے مستحق ہیں۔ اختلاف بڑھا تو قریش دو اتحادوں میں تقسیم ہو گئے۔

حلف المطیّبین اور مناصب کی تقسیم

بنو عبد مناف اور ان کے حامیوں نے باہمی حمایت کا عہد کیا۔ روایت کے مطابق، انہوں نے خوشبو سے بھرے ایک برتن میں ہاتھ ڈالے، پھر انہیں کعبہ کے کونوں پر پھیرا۔ اسی نسبت سے یہ اتحاد حلف المطیّبین، یعنی خوشبو لگانے والوں کا معاہدہ، کہلایا۔

بنو عبد مناف کے ساتھ بنو اسد بن عبدالعزیٰ بن قُصَی، بنو زہرہ، بنو تیم اور بنو حارث بن فہر شامل تھے۔ بنو مخزوم، بنو سہم، بنو جمح اور بنو عدی نے بنو عبد الدار کا ساتھ دیا۔ بنو عامر بن لؤی اور بنو محارب بن فہر دونوں اتحادوں سے الگ رہے۔

آخرکار صلح ہو گئی۔ سقایہ اور رفادہ، یعنی حاجیوں کے پانی اور کھانے کی ذمہ داریاں، بنو عبد مناف کو ملیں۔ حجابہ، لواء اور ندوہ، یعنی کعبہ کی تولیت، عَلَم دینے اور اجتماعی مجلس کے اختیارات، بنو عبد الدار کے پاس رہے۔ اس تقسیم پر اتفاق قائم ہو گیا اور یہی انتظام آگے چلتا رہا۔

قُصَی کے دور میں جمع ہونے والے مناصب اس طرح ان کی اولاد کے مختلف خاندانوں میں تقسیم ہوئے۔ کعبہ کی نگہبانی، حاجیوں کی خدمت اور قبائلی مشاورت کی یہ ذمہ داریاں اسلام سے پہلے مکہ میں قریش کی حیثیت کا اہم حصہ رہیں

Leave a Reply