تعارف

اسلام کی تعلیم ہے کہ اللہ کسی سے پیدا نہیں ہوا، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔ وہ تمام مخلوقات کا خالق ہے اور ساری مخلوق اسی کی محتاج ہے۔

سورۃ الاخلاص اس حقیقت کو مختصر اور جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔ سورۃ الانعام اور سورۃ مریم کی متعلقہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اللہ کے ساتھ ہمارا تعلق مخلوق کا اپنے خالق سے اور بندوں کا اپنے رب سے تعلق ہے۔

قرآنی آیات اور ان کے معانی

ہر آیت کے فوراً بعد اس کا توضیحی اردو مفہوم دیا گیا ہے۔ یہ فراہم کردہ انگریزی متن میں بیان کردہ معانی کی ترجمانی ہے؛ اسے کسی نام زد مترجم کے شائع شدہ ترجمے کا لفظی اقتباس نہ سمجھا جائے۔

سورۃ الاخلاص: اللہ کی یکتائی اور بے نیازی

سورۃ الاخلاص، 112:1

قُلْ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ

مفہوم: کہہ دیجیے: وہ اللہ ایک ہے۔

سورۃ الاخلاص، 112:2

ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ

مفہوم: اللہ بے نیاز ہے، سب اسی کے محتاج ہیں۔

سورۃ الاخلاص، 112:3

لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ

مفہوم: نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے۔

وضاحت: «لَمْ يَلِدْ» کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی کوئی اولاد نہیں۔ اس سے اس کے خالق ہونے کی نفی نہیں ہوتی۔ کسی چیز کو پیدا کرنا اور اس کا والد ہونا دو الگ تعلق ہیں۔

سورۃ الاخلاص، 112:4

وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدٌۢ

مفہوم: اور کوئی اس کے برابر یا اس کا ہمسر نہیں۔

یہ آیات مل کر اللہ کا تعارف یکتا، بے نیاز، اولاد اور والدین سے پاک، اور ہر ہمسر سے منزہ ذات کے طور پر کراتی ہیں۔

سورۃ الانعام: ہر چیز کا خالق

سورۃ الانعام، 6:101

بَدِيعُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُۥ وَلَدٌۭ وَلَمْ تَكُن لَّهُۥ صَٰحِبَةٌۭ ۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍۢ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۭ

مفہوم: وہ آسمانوں اور زمین کو کسی سابق نمونے کے بغیر پیدا کرنے والا ہے۔ اس کی اولاد کیسے ہو سکتی ہے، جبکہ اس کی کوئی شریکِ حیات نہیں؟ اسی نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا کامل علم رکھتا ہے۔

اس آیت میں اولاد کی نفی کو اللہ کے خالق ہونے سے جوڑا گیا ہے۔ اس کی پوری دلیل پیشِ نظر رہنی چاہیے: اس نے آسمانوں اور زمین کو وجود بخشا، ہر چیز کو پیدا کیا اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔

سورۃ مریم: سب اس کے بندے ہیں

سورۃ مریم، 19:92

وَمَا يَنۢبَغِى لِلرَّحْمَٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا

مفہوم: رحمٰن کے شایانِ شان نہیں کہ وہ کسی کو اپنی اولاد بنائے۔

سورۃ مریم، 19:93

إِن كُلُّ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ إِلَّآ ءَاتِى ٱلرَّحْمَٰنِ عَبْدًۭا

مفہوم: آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے، وہ رحمٰن کے حضور بندہ بن کر آنے والا ہے۔

یہ آیات اللہ کی طرف اولاد منسوب کرنے کی نفی کرتی اور مخلوق کی حقیقی حیثیت واضح کرتی ہیں: سب اسی کے بندے ہیں۔

اہم الفاظ کو سمجھنا

سورۃ الاخلاص کے تین الفاظ خاص اہمیت رکھتے ہیں: اَحَد، الصَّمَد اور کُفُوًا۔

اَحَد اللہ کی بے مثال یکتائی کو بیان کرتا ہے۔ زیرِ بحث تفسیر ابن کثیر میں اس کی وضاحت ہر شریک، مدِّمقابل اور ہمسر کی نفی کے ذریعے کی گئی ہے۔ سورت کی آخری آیت اسی معنی کو مزید واضح کرتی ہے کہ کوئی اس کے برابر نہیں۔

الصَّمَد اللہ کی بے نیازی اور مخلوق کے اس کی محتاج ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ تفسیر میں بتایا گیا ہے کہ مخلوقات اپنی ضروریات اور حاجات کے لیے اسی کی طرف رجوع کرتی ہیں۔ سب اس کے محتاج ہیں، جبکہ وہ کسی کا محتاج نہیں۔

کُفُوًا سے مراد برابر یا ہمسر ہے۔ اس کی نفی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا کوئی ہمسر نہیں اور کوئی چیز اس کے برابر نہیں۔

ان الفاظ کو یکجا سمجھنے سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ کی اولاد نہ ہونا اس کے کمال اور بے نیازی کا حصہ ہے۔ انسانی ضروریات کو اللہ کے کمال کا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا۔

آسان وضاحت

انسانی زندگی میں پیدائش، پرورش اور بہت سی ضروریات شامل ہیں۔ والدین، اولاد اور خاندانی رشتے انسانی زندگی میں اہم مقام رکھتے ہیں، لیکن ان تعلقات کو اللہ کی ذات پر قیاس کرکے اسے نہیں سمجھا جا سکتا۔ قرآن اسے الصَّمَد کہتا ہے: سب اس کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔

«لَمْ يَلِدْ» کا مطلب ہے کہ اللہ کی کوئی اولاد نہیں، اور «وَلَمْ يُولَدْ» کا مطلب ہے کہ وہ خود کسی سے پیدا نہیں ہوا۔ دونوں باتیں واضح کرتی ہیں کہ اللہ کسی خاندان یا نسبی سلسلے کا حصہ نہیں۔ نہ اس کے والدین ہیں اور نہ اس کی نسل یا اولاد ہے۔

یہاں خالق ہونے اور والد ہونے کا فرق بنیادی ہے۔ اللہ نے اپنی مخلوقات کو پیدا کیا، لیکن اس کے پیدا کرنے سے وہ اس کی اولاد نہیں بن جاتیں۔ سورۃ الانعام اسے ہر چیز کا خالق قرار دیتی ہے، جبکہ سورۃ مریم سب کو اس کا بندہ بتاتی ہے۔

اسی طرح کسی مخلوق کی عزت، فضیلت یا غیر معمولی حیثیت اسے اللہ کی الوہیت میں شریک نہیں بناتی۔ اسے جو بھی عزت حاصل ہے، وہ اللہ کی عطا کردہ ہے؛ وہ پھر بھی اسی کی مخلوق ہے اور اس کی بندگی کے دائرے میں رہتی ہے۔

اسی لیے اللہ کی اولاد نہ ہونے کو انسانی محرومی یا تنہائی کے تصور سے نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کی بے نیازی کمال ہے۔ وہ ان ضروریات سے پاک ہے جو مخلوق کے ساتھ وابستہ ہیں۔

تفسیر ابن کثیر کا خلاصہ

سورۃ الاخلاص کی تفسیر میں ابن کثیر، اللہ کے اَحَد ہونے کو ہر شریک، مدِّمقابل اور ہمسر کی نفی سے واضح کرتے ہیں۔ اس لیے اولاد کی نفی، سورت میں بیان کردہ اللہ کی کامل یکتائی اور بے مثالی ہی کا حصہ ہے۔

الصَّمَد کے تحت تفسیر میں ابن عباس رضي الله عنهما سے یہ وضاحت نقل ہوئی ہے کہ مخلوق اپنی حاجات اور ضروریات کے لیے اللہ کی طرف رجوع کرتی ہے۔ اس کے علم، حکمت، عظمت اور اقتدار کے کمال کا بھی ذکر آتا ہے۔ اس سے اللہ اور مخلوق کا تعلق واضح ہوتا ہے: سب مخلوقات اس کی محتاج ہیں، جبکہ اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔

آخری دو آیات کی تشریح میں اللہ کے لیے اولاد، والدین اور شریکِ حیات کی نفی کی گئی ہے۔ ابن کثیر اس مضمون کو سورۃ الانعام 6:101 سے جوڑتے ہیں: اللہ ہر چیز کا مالک اور خالق ہے، اس لیے اس کی کوئی مخلوق اس کی ہمسر نہیں ہو سکتی۔

سورۃ الانعام میں بدیع کی وضاحت اس ذات کے طور پر کی گئی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو کسی سابق نمونے کے بغیر پیدا کیا۔ شریکِ حیات اور اولاد کے ذکر کے ساتھ تفسیر اس بات پر زور دیتی ہے کہ کوئی چیز اللہ جیسی نہیں اور تمام مخلوقات اسی کی پیدا کردہ ہیں۔ آیت کو صرف انسانی تولید کے بیان تک محدود کر دینا اس کی مکمل دلیل کو نظر انداز کرنا ہوگا۔ آس پاس کی آیات اللہ کی طرف بے علمی سے بیٹے اور بیٹیاں منسوب کرنے کی تردید کرتی ہیں، پھر لوگوں کو اپنے خالق کی عبادت کی دعوت دیتی ہیں۔ تفسیر کا فراہم کردہ حوالہ: الانعام 6:101

سورۃ مریم کے متعلقہ مقام کی تفسیر میں عیسیٰ عليه السلام کا بھی ذکر ہے، جو مریم کے بیٹے اور اللہ کے بندے ہیں۔ تفسیر ان کی بغیر والد کے پیدائش کے بیان کو آگے آنے والی اللہ کی طرف اولاد منسوب کرنے کی نفی سے جوڑتی ہے۔ اس سے ایک اہم فرق واضح ہوتا ہے: غیر معمولی پیدائش اللہ کی قدرت کو ظاہر کرتی ہے؛ اس سے پیدا ہونے والا شخص اللہ کی اولاد ثابت نہیں ہوتا۔

ابن کثیر مزید واضح کرتے ہیں کہ اللہ کی طرف اولاد منسوب کرنا اس کی عظمت کے شایانِ شان نہیں، کیونکہ تمام مخلوقات اس کے بندے ہیں۔ اگلی آیات ان کے بارے میں اللہ کے علم اور قیامت کے دن ہر ایک کے تنہا اس کے سامنے حاضر ہونے کا ذکر کرتی ہیں۔ اس طرح اللہ کی درست معرفت ہمیں اپنی ذمہ داری بھی یاد دلاتی ہے: ہم اپنے رب کے سامنے اس کے بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔ تفسیر کا فراہم کردہ حوالہ: مریم 19:92

مرکزی پیغام — خلاصہ

اللہ ایک، بے نیاز اور بے مثال ہے۔ نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔ یہ آیات ہمیں اپنے خالق کو پہچاننے، مخلوق کو اس کے برابر قرار دینے سے بچنے اور صرف اسی کی عبادت کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔

ایک صحیح حدیث سے رہنمائی

صحیح البخاری، حدیث 4974 — حدیثِ قدسی کے متعلقہ حصے کا مفہوم، لفظی اقتباس نہیں:

ابو ہریرہ رضي الله عنه سے روایت ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اللہ کا یہ ارشاد بیان فرمایا: انسان یہ دعویٰ کرکے اللہ کو جھٹلاتا ہے کہ اللہ اسے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا، اور اس کی طرف اولاد منسوب کرکے اس کی شان میں گستاخی کرتا ہے۔ اللہ ایک اور بے نیاز ہے؛ نہ اس کی کوئی اولاد ہے، نہ وہ کسی سے پیدا ہوا، اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔

اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف اولاد منسوب کرنا معمولی یا بے ضرر بات نہیں سمجھا گیا۔ اللہ کے بارے میں ہمارے عقائد اور الفاظ ان صفات کے مطابق ہونے چاہییں جو اس نے خود بیان فرمائی ہیں۔

غور و فکر اور ہماری زندگی کے لیے رہنمائی

یہ آیات ہمیں اپنی محتاجی پہچاننے کی دعوت دیتی ہیں۔ ہم نے خود کو وجود نہیں بخشا، اور ہماری زندگی بہت سی ضروریات سے وابستہ ہے۔ اللہ کا نام الصَّمَد ہمیں اس رب کی طرف متوجہ کرتا ہے جو ہماری حاجات جانتا ہے اور خود کسی کا محتاج نہیں۔

ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے: کیا ہم اللہ کو اس کی وحی سے پہچان رہے ہیں، یا اپنے انسانی تجربات کو اس کی ذات پر قیاس کر رہے ہیں؟ خاندان اور اولاد انسانی زندگی میں اپنا مقام رکھتے ہیں، لیکن وہ اللہ کے کمال کا پیمانہ نہیں بن سکتے۔

اپنی بندگی تسلیم کرنا اپنی حقیقی حیثیت پہچاننا ہے۔ ہمارا درست رویہ یہ ہے کہ اپنے خالق کو جانیں، اس کی ہدایت قبول کریں اور اس کے سامنے جواب دہی یاد رکھیں۔ سورۃ مریم میں سب کے بندہ بن کر اس کے حضور آنے کا بیان اسی حقیقت کی طرف ہماری توجہ دلاتا ہے۔

اس تعلیم کو دوسروں تک پہنچاتے ہوئے وضاحت اور احترام ساتھ رہنے چاہییں۔ کسی عقیدے سے اختلاف، اس کے ماننے والے کی تذلیل کا تقاضا نہیں کرتا۔ قرآن کا مؤقف صاف طور پر بیان کیا جا سکتا ہے، اور ساتھ ہی دوسروں کو سوال کرنے، سمجھنے اور غور کرنے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔

دعا

اے اللہ! ہمیں اپنی صحیح معرفت، اپنی توحید پر خالص ایمان اور اپنی سچی بندگی نصیب فرما۔ ہمارے عقائد اور الفاظ کو ہر اس بات سے محفوظ رکھ جو تیری عظمت کے شایانِ شان نہیں۔ ہمیں حق سمجھنے، قبول کرنے اور احترام کے ساتھ بیان کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔

Leave a Reply